31 اگست، 2026، 5:17 PM

اسلامی وحدت عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت

اسلامی وحدت عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت

قومی اور اسلامی وحدت و انسجام ان موضوعات میں سے ہے جن پر قدیم زمانے سے علمائے دین اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے خادمین نے خصوصی توجہ دی ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے متعدد مصلحین اور علما نے مسلمانوں کے اتحاد کو اپنی فکری اور اصلاحی جدوجہد کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، دینی ڈیسک-لاریب بی بی: اسلامی وحدت ان اہم ترین نظریات اور آرمانوں میں سے ہے جنہیں ہر آزاد مسلمان نے صدرِ اسلام سے لے کر آج تک اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر اپنے پیشِ نظر رکھا ہے۔ قرآنِ کریم میں «امت» اور «امتِ واحدہ» جیسی تعبیرات اس حقیقت کی واضح تائید کرتی ہیں کہ اسلام انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اجتماعی وحدت اور باہمی یکجہتی کو بھی خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ اجتماعی اتحاد و انسجام امتِ مسلمہ کے بنیادی مسائل میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی قوت، عزت، آزادی اور خودمختاری کا تعلق بڑی حد تک ان کے باہمی اتحاد سے ہے۔اسلامی تعلیمات مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اخوت، محبت، تعاون اور ہمدردی کا درس دیتی ہیں۔ یہی اسلامی بنیادیں مسلمانوں کے اتحاد کو محض ایک سیاسی یا معاشرتی ضرورت نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے ایک دینی، اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے: «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» یعنی اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے صرف اللہ کی رسی کو تھامنا ہی مطلوب نہیں بلکہ «جَمِیعاً» کے ذریعے اجتماعی طور پر اس سے وابستہ رہنے اور تفرقے سے بچنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ لہٰذا اسلامی وحدت ایک انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی فریضہ ہے۔

اسلامی وحدت کی اہمیت اور ضرورت

قومی اور اسلامی وحدت و انسجام ان موضوعات میں سے ہے جن پر قدیم زمانے سے علمائے دین اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے خادمین نے خصوصی توجہ دی ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے متعدد مصلحین اور علما نے مسلمانوں کے اتحاد کو اپنی فکری اور اصلاحی جدوجہد کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔

ان شخصیات میں سید جمال الدین اسدآبادی، شیخ محمد عبده، آیت اللہ بروجردی، شیخ شلتوت، سید قطب، آیت اللہ تسخیری، امام خمینیؒ اور رہبر شہید سمیت دیگر اسلامی مفکرین اور مصلحین کے نام نمایاں ہیں ۔عصرِ حاضر میں اسلامی وحدت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ دشمن مختلف ذرائع سے مسلمانوں کے درمیان موجود اختلافات کو ہوا دینے اور نئے اختلافات پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے باہمی اتحاد، اخوت اور یکجہتی محض ایک پسندیدہ امر نہیں بلکہ اسلامی دنیا کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔

مسلمانوں کے اختلاف و انتشار کے نتائج

اسلامی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد رہے تو انہوں نے علمی، تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں نمایاں ترقی حاصل کی۔ اسلام کی دعوت بہت مختصر مدت میں وسیع علاقوں تک پہنچی اور مسلمانوں نے ایک عظیم تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی۔ اس کامیابی کے اہم عوامل میں اسلامی اخوت، اجتماعی اتحاد اور مشترکہ دینی مقصد شامل تھے۔اس کے برعکس جب امتِ مسلمہ اختلاف و انتشار کا شکار ہوئی تو اس کی قوت کمزور ہوتی گئی۔ مسلمانوں کی باہمی ناہم آہنگی، سیاسی انتشار اور فکری تشتّت نے بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع فراہم کیا۔ نتیجتاً اسلامی ممالک استعمار کے زیرِ تسلط آئے اور مسلمانوں کو اپنی آزادی، قومی حاکمیت اور خودمختاری کے تحفظ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امتِ مسلمہ کی موجودہ کمزوری کا ایک بنیادی سبب اس کا باہمی انتشار اور وحدت سے دوری ہے۔

استعمار اور تفرقہ؛ مسلمانوں کے اتحاد کے خلاف سازش:

استعمار پسند قوتوں نے مسلمانوں کی اجتماعی طاقت اور جغرافیائی اہمیت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ اسی لیے انہوں نے مختلف ادوار میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے اور ان کے اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔

شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف کو ہوا دینا، مذہبی تعصبات کو بڑھانا، ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین پر اکسانا اور فرقہ وارانہ مواد پھیلانا اسی حکمتِ عملی کے مختلف مظاہر ہیں۔مقامِ معظم رہبری کے مطابق دشمن کا ایک اہم مقصد شیعہ و سنی کے درمیان جنگ اور نفرت پیدا کرنا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مذہبی اختلاف کو دشمنی اور جنگ میں تبدیل کرنا دراصل دشمن کے مفاد میں ہے۔اسلامی مذاہب کے درمیان فقہی اور کلامی اختلافات اپنی جگہ علمی بحث کا موضوع ہیں، لیکن انہیں عوامی سطح پر نفرت، دشمنی اور تنازع کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

امام خمینیؒ کے افکار میں اسلامی وحدت

امام خمینیؒ نے اسلامی وحدت کو اپنی اصلاحی اور انقلابی فکر کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا۔ آپ کی نظر میں مسلمانوں کی کمزوری اور پسماندگی کا ایک اہم سبب ان کا باہمی انتشار تھا۔ اسی لیے آپ نے تمام فقہی، کلامی اور تاریخی اختلافات سے بالاتر ہو کر مسلمانوں کے مشترکہ مفادات اور مشترکہ اسلامی اصولوں پر توجہ دی۔

امام خمینیؒ کے وحدت پسندانہ نظریے کے دو بنیادی پہلو نمایاں ہیں:

. مسلمانوں کے لیے اجتماعی قوت حاصل کرنا اور اسلام مخالف طاقتوں کی بالادستی کا مقابلہ کرنا
. امتِ مسلمہ کے تاریخی، دینی اور معاشرتی اتحاد و انسجام کو مضبوط بنانا۔

آپ کے نزدیک اسلامی وحدت کا مقصد یہ نہیں تھا کہ مسلمان اپنے مخصوص فقہی یا اعتقادی نظریات سے دستبردار ہوجائیں، بلکہ مقصد یہ تھا کہ اختلافات کے باوجود مسلمان مشترکہ اسلامی اصولوں پر متحد رہیں۔ اسی لیے امام خمینیؒ نے فلسطین کے مسئلے، مناسکِ حج اور برائت از مشرکین جیسے مواقع کو مسلمانوں کے اتحاد اور اسلامی بیداری کے لیے استعمال کیا۔

رہبر شہید کے نزدیک اسلامی وحدت

رہبر شہید کے نزدیک عالمِ اسلام کی ترقی، عزت اور سربلندی اسلامی اتحاد و انسجام کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ نے مختلف مواقع پر مسلمانوں کو باہمی اتحاد، اخوت اور تعاون کی دعوت دی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد کا محور کتابِ خدا، سنتِ نبی اکرم (ص) اور شریعتِ اسلام ہونا چاہیے۔آپ کے نزدیک توحید اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان اسلامی معاشرے کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب مسلمان ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن اور ایک اسلامی شریعت کے محور پر جمع ہوتے ہیں تو ایک مربوط، ہم آہنگ اور متحد معاشرہ وجود میں آتا ہے۔آپ اسلامی وحدت کو دشمن کی سازشوں اور سنگین خطرات کے مقابلے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ آپ کے نزدیک وہ آواز جو مسلمانوں کو وحدت کی دعوت دیتی ہے، الٰہی آواز ہے، جبکہ وہ آواز جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتی ہے اور مذاہب کے درمیان دشمنی پیدا کرتی ہے، شیطانی آواز ہے۔

 وحدتِ اسلامی کا مطلب عقائد سے دستبرداری نہیں

اسلامی وحدت کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اتحاد کا مطلب مختلف اسلامی مذاہب کے مخصوص عقائد اور فقہی نظریات کو ختم کرنا نہیں ہے۔شیعہ اور سنی اپنے اپنے فقہی اور کلامی اصولوں پر قائم رہ سکتے ہیں۔ علمی اختلاف، تحقیق، مناظرے اور استدلال کا اپنا مقام ہے۔ اختلافِ رائے بذاتِ خود امت کے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ اسے علمی اور مہذب انداز میں برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
اصل مسئلہ تنازع اور دشمنی ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: «وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا» یعنی آپس میں تنازع نہ کرو، ورنہ کمزور پڑ جاؤ گے۔ لہٰذا اسلامی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، مشترکہ مسائل میں تعاون کریں اور اسلام کے دشمنوں کے مقابلے میں متحد رہیں۔

نبی اکرم (ص) ؛ اسلامی وحدت کا سب سے بڑا محور

رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) تمام مسلمانوں کے درمیان وحدت کا سب سے بڑا اور مضبوط محور ہیں۔ تمام مسلمان آپ (ص) کی ذاتِ اقدس سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ یہی محبت مسلمانوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔اس لیے اسلامی وحدت کے فروغ کے لیے رسولِ اکرم (ص) کی شخصیت، سیرت، اخلاق، زندگی اور تعلیمات پر زیادہ سے زیادہ علمی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیرتِ نبوی (ص) مسلمانوں کے لیے ایسا مشترکہ سرمایہ ہے جس پر تمام اسلامی مذاہب کے پیروکار جمع ہوسکتے ہیں۔

 غدیر اور اسلامی وحدت

مسلہ غدیر بھی اسلامی وحدت کے لیے ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔ آیت اللہ شہید مطہریؒ نے «الغدیر و وحدت اسلامی» کے عنوان سے اسی موضوع پر توجہ دلائی ہے۔شیعہ مکتبِ فکر غدیر کو امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی ولایت و جانشینی کے اعتقادی مسئلے کے طور پر دیکھتا ہے، تاہم غدیر میں ولایت کا ایک وسیع تر مفہوم بھی موجود ہے جو مسلمانوں کے درمیان محبت، وابستگی اور دینی قیادت کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔اس زاویے سے غدیر کو مسلمانوں کے درمیان علمی گفتگو، باہمی مفاہمت اور اسلامی وحدت کے فروغ کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے، نہ کہ باہمی نزاع کا سبب۔

تکفیری افکار کا مقابلہ اور علما کی ذمہ داری

اسلامی وحدت کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ تکفیری فکر ہے۔ ایسے گروہ جو علمی بصیرت، تقویٰ اور دینی فہم کے بغیر بڑی تعداد میں مسلمانوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں، درحقیقت اسلامی معاشرے میں نفرت اور انتشار کو فروغ دیتے ہیں۔علما کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ایسے افکار سے آگاہ کریں اور انہیں دشمن کی ان سازشوں سے محفوظ رکھیں جو مذہبی جذبات کو استعمال کرکے مسلمانوں کے درمیان جنگ اور نفرت پیدا کرتی ہیں۔

قرآنِ کریم مسلمانوں کو باہمی اختلافات سے بچنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لہٰذا علما، دانشوروں اوردینی مراکز کو چاہیے کہ تکفیری افکار کے علمی اور منطقی رد کے ساتھ ساتھ عوام میں دینی بصیرت اور شعور بھی پیدا کریں۔

اسلامی وحدت کا منشور

اسلامی وحدت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم عملی تجویز منشورِ وحدتِ اسلامی کی تدوین ہے۔ علما، فقہا، متکلمین، فلسفیوں اور اسلامی مفکرین کو مل بیٹھ کر ایسے اصول مرتب کرنے چاہییں جو تمام اسلامی فرقوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔

اس منشور میں خاص طور پر درج ذیل امور شامل ہوسکتے ہیں:

- کسی اسلامی فرقے کو آسانی سے دائرۂ اسلام سے خارج قرار نہ دینا۔
- مسلمانوں کے مقدسات کی توہین سے اجتناب کرنا۔
- اختلافات کو علمی اور مہذب انداز میں حل کرنا۔
- مشترکہ اسلامی اصولوں کو فروعی اختلافات پر ترجیح دینا۔
- دشمن کی تفرقہ انگیز سازشوں سے ہوشیار رہنا۔
- اسلامی ممالک اور اقوام کے مشترکہ مسائل میں تعاون کرنا۔
- عوام کے درمیان فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے سے اجتناب کرنا۔

اس طرح کا منشور امتِ مسلمہ کے مختلف طبقات کے درمیان ایک مشترکہ اخلاقی اور اجتماعی ضابطے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔-

مختلف اسلامی مذاہب کے افکار کا باہمی مطالعہ

اسلامی وحدت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ مختلف اسلامی مذاہب کے فقہی، کلامی اور فکری نظریات کو ایک دوسرے کے سامنے علمی اور منصفانہ انداز میں پیش کیا جائے۔
فقہا، متکلمین اور اسلامی فلسفیوں کو چاہیے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے نظریات کا تقابلی مطالعہ کریں اور ان کے مشترک پہلوؤں کو نمایاں کریں۔ بہت سے ایسے فقہی مسائل موجود ہیں جن میں مختلف مذاہب کے درمیان قربت کے امکانات پائے جاتے ہیں۔

اگر مختلف اسلامی مکاتبِ فکر ایک دوسرے کے نظریات کو براہِ راست اور مثبت انداز میں سمجھیں تو بہت سے غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں اور باہمی مفاہمت کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔

مشترکہ دشمن کے مقابلے میں متحدہ موقف

اسلامی وحدت کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمان مشترکہ خطرات اور مشترکہ دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہوکر کھڑے ہوں۔ عالمِ اسلام جغرافیائی، انسانی اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے ایک عظیم طاقت رکھتا ہے۔ دنیا کی ایک بڑی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور مسلم ممالک قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی راستوں کے اعتبار سے انتہائی اہم مقام رکھتے ہیں۔ اگر یہ انسانی، مادی اور فکری قوت باہمی اختلافات میں ضائع ہونے کے بجائے مشترکہ اسلامی مفادات کے لیے استعمال ہو تو عالمِ اسلام اپنی آزادی، عزت اور خودمختاری کے تحفظ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

 اسلامی وحدت کے حصول کے لیے عملی تجاویز

اسلامی وحدت کو محض ایک نظری شعار کے بجائے عملی حقیقت بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

    مشترکہ اسلامی اصولوں کو مضبوط کرنا

    توحید، قرآنِ کریم، رسالتِ رسول اکرم (ص) ، قبلہ، نماز اور دیگر مشترکہ اسلامی بنیادوں کو وحدت کے محور کے طور پر اجاگر کیا جائے۔
    علمی مکالمے کو فروغ دینا
    مختلف اسلامی مذاہب کے علما اور دانشوروں کے درمیان علمی نشستیں، کانفرنسیں اور تحقیقی پروگرام منعقد کیے جائیں۔
    فرقہ وارانہ نفرت کی روک تھام
    میڈیا، سوشل میڈیا، تعلیمی اداروں اور مذہبی مراکز میں اشتعال انگیز اور نفرت پھیلانے والے مواد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
    تکفیری افکار کے خلاف علمی جدوجہد
    عوام کو تکفیر کے خطرات اور اس کے اسلامی معاشرے پر تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا جائے۔
    سیرتِ نبوی (ص) کو محور بنایا جائے
    رسولِ اکرم (ص) کی سیرت، اخلاق اور تعلیمات کو اسلامی وحدت کے مشترکہ سرچشمے کے طور پر پیش کیا جائے۔

مشترکہ مسائل میں تعاون

    فلسطین، اسلامی ممالک کی آزادی، غربت، علمی پسماندگی اور دیگر مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مسلمان مل کر کام کریں۔
    اسلامی مذاہب کا تقابلی مطالعہ
    فقہی اور کلامی نظریات کو تعصب سے بالاتر ہوکر علمی انداز میں ایک دوسرے کے سامنے پیش کیا جائے۔
حکومتوں اور عوام کا تعاون
اسلامی وحدت صرف علما کی ذمہ داری نہیں؛ حکومتوں، دینی مراکز، تعلیمی اداروں، دانشوروں اور عام مسلمانوں کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
نتیجہ
اسلامی وحدت قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے اور امتِ مسلمہ کی عزت، آزادی، ترقی اور سربلندی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان فقہی اور کلامی اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن ان اختلافات کو باہمی دشمنی، نفرت اور تنازع میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔امام خمینیؒ اور مقامِ معظم رہبری کے افکار میں اسلامی وحدت محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور اجتماعی ضرورت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان اپنے مشترکہ اسلامی اصولوں پر متحد ہوکر نہ صرف داخلی اختلافات پر قابو پاسکتے ہیں بلکہ بیرونی دباؤ اور تفرقہ انگیز سازشوں کا بھی مؤثر مقابلہ  کر سکتےہیں۔

News ID 1941028

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha